گنبدِ آفاق میں روشن ہوئی شمعِ نجات

گنبدِ آفاق میں روشن ہوئی شمعِ نجات۔۔
Gumbad e Aafaaq Mein Raushan Huyi Sham’e Nijaat Lyrics, مبارک ہو علی پیدا ہوا, Mubarak Ho! Ali Paida Hua

کلامِ حضرت پیر نصیرالدین شاہ نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ


Read in English / Roman Urdu


مسدّس در ولادتِ

الضّرغامُ السّالب ، اسدُ اللّٰہِ الغالب امیرِ المؤمنین علی ابنِ ابی طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

گنبدِ آفاق میں روشن ہوئی شمعِ نجات

گنبدِ آفاق میں روشن ہوئی شمعِ نجات
لہلہائی زلف لیلاۓ رُموزِ شش جہات
گھل رہا ہے آسماں پر غرفۂ ذات و صفات
اُٹھ رہا ہے بُرقعِ سَلماۓ روحِ کائنات

زندگی ، علم و فراست کا مزا چکھنے کو ہے
فرش پر افلاک کی عظمت ، قدم رکھنے کو ہے۔

 

آسماں نِکھرا ، اُبھرتا آ رہا ہے آفتاب
اٹھ رہا ہے رُوۓ اسرار و حقائق سے نقاب
کھل رہی ہے ذہن پر ادراک و عرفاں کی کتاب
کہ رہی ہے زندگی ، یا لَیتنِی کُنتُ تُراب

عارفوں کو مژدہ ، شاہِ عارفاں آنے کو ہے
اے زمیں سجدے میں کِر جا ! آسماں آنے کو ہے۔

(یہاں آیہ کریمہ یا لَیتنِی کُنتُ ترابا کے بجاۓ حدیث شریف کے الفاظ قُم یا ابا تُراب کے مفہوم کو سامنے رکھتے ہوۓ مصرعہ پڑھا جاۓ۔ نصیر)

 

اس کے آتے ہی نبوت کا نشاں کُھل جاۓ گا
عُقدۂ ویرینۂ روحِ جہاں کھل جاۓ گا
قُفلِ ایوانِ اُمُورِ این و آں کھل جاۓ گا
گنجِ فِکر و بابِ اسرارِ نہاں کھل جاۓ گا

فاش کر دے گا رُموزِ اندک و بسیار کو
کھول دے گا غرفہ ہائے ثابت و سیّار کو۔

 

لو وہ دمکا مطلعِ صدق و صفا پر آفتاب
آسمانِ عقل و دانائی پہ وہ جُھو مے سحاب
لو وہ آیا صاحبِ سیف و قلم گردوں جناب
مرحبا وہ آۓ بزمِ آب و گُل میں بُوتُراب

لو ، وہ لوحِ دہر پر نقشِ جلی پیدا ہوا
نوعِ انساں کو مبارک ہو ! علی پیدا ہوا۔

 

آپ کے آتے ہی بدلا ، زندگی کا ہر نظام
ہو گیا دنیا میں لطفِ خاص سے ، فیضانِ عام
پیشوائی کا کیا کعبہ نے از خود اہتمام
بادۂ صدق و صفا کے آ گئے گردش میں جام

عقل کے کانٹے پہ اسرارِ نہاں تُانے لگے
لیلئ افکار کے بندِ قبا کھلنے لگے۔

 

ٹھیکروں میں تابشِ تاجِ کیانی آ گئی
پھر زمیں میں آب و تابِ آسمانی آ گئی
از سرِ نَو خونِ ہستی میں روانی آ گئی
مِصر پھر جُھوما ، زُلَیخا پر جوانی آ گئی

لیلئ آفاق پر برنائیاں چھانے لگیں
شاہدِ اطلاق کو انگڑائیاں آنے لگیں۔

 

فکر کی کلیوں کو ذہنوں میں چٹکنا آ گیا
عندلیبِ مُہر بر لب کو ، چہکنا آ گیا
بزمِ ہو میں جامِ وحدت کو کھنکنا آ گیا
شاخ کو ہلنا ، صنوبر کو لچکنا آ گیا

لیلئ حسنِ تکلّم کو عَماری مِل گئی
خِسروِ معنیٰ کو لفظوں کی سواری مِل گئی۔

 

کاکُلِ لیلاۓ فطرت کو سنورنا آ گیا
شانۂ خوباں پہ زلفوں کو بکھرنا آ گیا
عِلم کے لہجے کو روحوں میں اترنا آ گیا
نُطق کو الفاظ کی صورت اُبھرنا آ گیا

چومنے ، ہفت آسماں پاۓ زمیں آنے لگے
تحفۂ یزداں لیے رُوح الامیں آنے لگے۔

 

بنتِ جَودت کو قبا کے بند کَسنا آ گیا
ابرِ نیساں کو گلستاں پر برسنا آ گیا
دشت گلشن بن گئے ، شہروں کو بسنا آ گیا
پا بہ گِل نخلِ تمنا کو اُکَسنا آ گیا

عرش کی تنویر سے معمور فرشِ خاک ہے
آشنا حسنِ تمدُّن سے ، خس و خاشاک ہے۔

 

خیمۂ دانشوری میں عُود سُلگایا گیا
زمزموں کا ، موتیوں کا ، ابر برسایا گیا
شعر و نغمہ کو حسیں آہنگ پر لایا گیا
حور کو وجد آۓ جس پر راگ وہ گایا گیا

نو عروسِ ذہن کو رنگِ حنا سَجنے لگا
زندگی جھومی، کڑے سے جب چھڑا بجنے لگا۔

(حُور عربی زبان کا لفظ ہے حُوراء کی جمع ہے مگر اکثر اہل علم بھی اسے بطور واحد باندھتے اور حوریں اس کی جمع سمجھتے ہیں ۔ جو غلط ہے ۔ چونکہ لفظ حُور خود جمع ہے اور اس کا واحد حُوراء ہے لہٰذا اسے حُوریاں ، حُوریں یا حُوراں باندھنا بالکل ہی غلط ہے ۔ پنجابی والے باندھتے ہیں تو باندھتے رہیں کم از کم اردو والوں کو ایسی صریح غلطی زیب نہیں دیتی۔)

 

جنّتِ اوراکِ انسانی کے دَر کھولے گئے
عقل کی میزاں پہ انوارِ حِکم تو لے گئے
فرشِ دانائی پہ حکمت کے گُہر رولے گئے
دیدۂ فطرت میں رنگ افکار کے گھولے گئے

ضربتِ حق سے ، ضلالت کا مَنارہ گر گیا
شَیطَنت کی آگ پر دم بھر میں پانی پھر گیا۔

 

آ گہی کے بام پر اُودی گھٹا چھانے لگی
زلف ، علم و فکر کے شانے پہ لہرانے لگی
شَہپرِ جبریل کی مہکی ہوا آنے لگی ،
لو، کمر زُہرہ کی لچکی ، مُشتری گانے لگی

زمزمے صحنِ ہنر مندی پہ برسائے گئے
مُرکیوں کو موتیوں کے ہار پہناۓ گئے۔

 

کشتئ دریاۓ دانائی کو لنگر مل گیا
علم کی دیوی کو آشاؤں کا زیور مل گیا
ہاتھ کو کنگن مِلا ، ماتھے کو جھُومر مل گیا
موجۂ گفتار کو اندازِ کوثر مِل گیا

تیرگی میں دولتِ بیدار پیدا ہو گئی
علم کی پازیب میں جھنکار پیدا ہو گئی۔

 

نوعِ انسانی کو اندازِ تکلُّم آ گیا
وہ تکلُّم ، جس سے باتوں میں تحکُّم آ گیا
وہ تحکُّم ، جس سے لہجوں میں ترنُّم آ گیا
وہ ترنُّم ، جس سے موجوں میں تلاطُم آ گیا

وہ تلاطُم ، جس سے پیغامِ صبا آنے لگا
وہ صبا ، جس میں پرِ جبریل لہرانے لگا۔

 

فطرتِ ہر شے میں مولائی مہک پیدا ہوئی
پھول کے لہجے میں بھنورے کی بِھنک پیدا ہوئی
کونپلوں میں بو ، ہواؤں میں سنک پیدا ہوئی
بادلوں میں گونج ، گردوں پر دھنک پیدا ہوئی

زُلفِ ایماں ، شانۂ ہستی پہ لہرانے لگی
زندگی اِیقان و آگاہی یہ اِٹھلانے لگی۔

 

نا خدائے کشتئ جود و کرم پیدا ہوا
نازشِ توقیرِ ارباب ہِمم پیدا ہوا
خِسروِ اقلیمِ قرطاس و قلم پیدا ہوا
پاسبان عزّ و ناموسِ حرم پیدا ہوا

گلشن اطلاق سے بادِ بہاری آ گئی
جُزو کے میدان میں ، گل کی سواری آ گئی۔

 

خاتمِ ناموسِ حکمت کا نگیں پیدا ہوا
جانشین انبیاء و مرسلیں پیدا ہوا
قاسمِ عرفان و ایمان و یقیں پیدا ہوا
افتخارِ اولین و آخریں پیدا ہوا

اپنی رو میں سینکڑوں دُرہاۓ جاں رولے ہوۓ
صبح حاضر ہو گئی گھونگٹ کے پَٹ کھولے ہوۓ۔

 

اشجعِ عالم ، خطیبِ نُکتَہ وَر پیدا ہوا
شارحِ علمِ نبی ﷺ ، صاحب نظر پیدا ہوا
بحرِ عرفانِ الٰہی کا گہر پیدا ہوا
مفتیِ دانا ، فقیرِ معتبر پیدا ہوا

بربطِ صوت و صدا میں زیر و بم پیدا ہوۓ
پھر نگارِ علم کی زلفوں میں خَم پیدا ہوۓ۔

 

آسمانِ حق پہ بِجلی کی چمک پیدا ہوئی
دل میں انساں کے صداقت کی دھمک پیدا ہوئی
جانبِ خورشید ذرّوں میں ہُمک پیدا ہوئی
چہرۂ نہج البلاغت پر دَمک پیدا ہوئی

زندگی پیمانۂ اسرار کو بھرتی ہوئی
خیمۂ حکمت میں ور آئی ، نِرَت کرتی ہوئی۔

 

ابرِ حکمت بَن کے کشتِ جہل پر چھاتا ہوا
ہر طرف بڑھتا ، ہُمکتا اور لہراتا ہوا
پھولتا ، پھلتا ، مہتا ، پھول برساتا ہوا
گونجتا ، گھرتا ، گرجتا ، جھومتا ، گاتا ہوا

آ گیا روح الامینِ علم ، پَر تولے ہوۓ
بت کدوں کو توڑتا ، کعبے کا دَر کھولے ہوۓ۔

 

روحِ پیغمبر کی تھی ذاتِ علی آئینہ دار
وہ علی ، جس سے ہے گلزارِ نبُوّت پُر بہار
علم کا در ، ملکِ قِرطاس و قلم کا شہر یار
عسکریّت کا پیمبر علم کا پروردگار

جس کے ذوقِ جُود پر ، فضل و عطا کو ناز ہے
جس کے اندازِ شجاعت پر ، خدا کو ناز ہے۔

 

رن میں یہ صورت کہ جیسے غیظ میں شیرِ ژیاں
تیغ در دست و رَجَز خواں ، ضرب اُسکی بے اماں
آسماں گیر و زمیں کوب و عَدُو سوز و دواں
شعلہ ریز و برق بار و شب سوار و صبح راں

تَوسَنِ چالاک سے فرشِ زمیں کو روند تا
برق کے مانند لہراتا ، لپکتا ، کَوند تا۔

 

وہ علی ، مشہور ہے جس کا یہ قولِ مُستطاب
“يافَتٰى لَا تُبطِلِ الأوقَاتَ فِیْ عَہدِ الشَّباب”
گوہرِ خود آگہی از بحرِ عرفانش بیاب
اِجتَنِب ما يُوقِعُ التَّشكِيكَ فِي اَمرِ الصَّواب

آدمیت کا جہاں میں بول بالا کر دیا
بندۂ ناچیز کو ادنیٰ سے اعلیٰ کر دیا۔

 

مسند آرائے سرِیرِ معرفت ، صِہرِ رسول
والدِ سبطین و جانِ اولیا ، زوجِ بتول
جعفرِ طیّار کا بازو ، ابُو طالب کا پُھول
سب سے پہلے جس نے بچپن میں کیا ایماں قبول

ڈھونڈ لی جس نے حقیقت اُس کے قیل و قال کی
دھو گیا ہے وہ ، سیاہی نامہ اعمال کی۔

 

اے شکوہِ نُہ سَپِہر ! اے عظمتِ لوح و قلم
دستگیرِ بے کساں ، داراۓ گیہانِ کرم
مقتدی ، نجم الہدٰی ، شیرِ خدا ، شمسُ الظُّلَم
منبعِ بذل و سخا ، تنویرِ عرفان و حِکَم

سنگ پر ڈالی نظر ، لعلِ بدخشاں کر دیا
تو نے ظلمت میں قدم رکھا ، چراغاں کر دیا۔

 

آشکارا تجھ پہ کی ، اللہ نے ہر ایک شَے
نام سے تیرے دہلتا ہے دل دارا و کَے
حوضِ کوثر کی چھلکتی ہے ترے ساغر سے مے
فاتحِ روم و سمرقند و تتار و شام و رَے

کون ٹھہرے گا ، امامُ الاولیا کے سامنے
با ادب اہلِ صفا ہیں ، مُرتضٰے کے سامنے۔

 

مدتوں روتی ہے چشمِ حسرتِ اہلِ چمن
سالہا رہتے ہیں گریاں ، دیدۂ چرخِ کُہَن
پھر نظر آتا ہے ایسا ایک نخلِ گُل بدن
“بایزید اندر خُراساں ، یا اویس اندر قرن“

زندگی رہتی ہے برسوں ، غوطہ زن در خاک و خُوں
“تا ز بزمِ عِشق ، یک دانائے راز آید بُروں”۔

 

اے خداوندانِ دولت ! خِسروانِ کج کلاہ
تا بہ کے یہ آرزوۓ طُمطراق و حُبِ جاه
کر دیا ہے تم کو دنیا کی محبت نے تباہ
دشمن دین مبیں ہو ، کفر کے ہو خیر خواہ

کعبہ ہے ایوانِ حکمت ، قصرِ دولت دَیر ہے
دانش و دینار میں باہم ازل سے بَیر ہے۔

 

جہل سے کب تک اٹھاؤ گے طبیعت کا خمیر
تا بہ کَے طِینَت کو رکھو گے ضلالت کا اسیر
تا بہ کَے زندہ رہو گے تم جہاں میں بے ضمیر
حشر تک رہنا ہے کیا دنیا کی نظروں میں حقیر ؟

تا بہ کَے دستار اپنوں کی اچھالی جاۓ گی
اپنی عزت غیر کی جھولی میں ڈالی جاۓ گی۔

 

ہم ہیں اہل فن ، ہمیں کوئی مٹا سکتا نہیں
کوئی ان اونچے مناروں کو گرا سکتا نہیں
کوئی ہم اہل خرد کے سر جھکا سکتا نہیں
کوئی دانش کے چراغوں کو بجھا سکتا نہیں

سرنگوں ہے خِسروی اہلِ حِکم کے سامنے
گردنِ شمشیر جُھکتی ہے ، قلم کے سامنے۔

 

ہم ہیں رندانِ حق آگاه و شرافت آشنا
طبعِ عالی سے ہماری ، دُور ہے حرص و ہوا
ہے صراطِ مستقیم اپنے لیے راہِ خدا
حشر برحق ، شافعِ محشر محمد مصطفےٰ ﷺ

ہے تہِ دل سے نصیر آلِ محمد پر نثار
لا فتٰى اِلاَّ عَلِى، لَا سَيفَ اِلاَّ ذُوالفِقار۔

گنبدِ آفاق میں روشن ہوئی شمعِ نجات ، گنبدِ آفاق میں روشن


Our Pages

Hamd-E-Baari-T’aala 

Naat-E-Paak         

Rabiul Awwal Mutalliq Kalam

Manqabat Ghaus e Azam

Manqabat Ghareeb Nawaaz

Shayar

Naat Khwan:

         Qawwali